مخلوط ڈانس، ٓاندر کی کہانی کیا ہے

0
1073

گلگت: میڈیا میں ایک مقامی ہوٹل میں ہونے والے ثقافتی شو کے حوالے سے جاری بحث کے پیش نظر ہم نے کوشش کی کہ اصل کہانی کو منظر عام پر لائیں۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں یہ یونٹ سرینا ہوٹل میں منعقد ہوا اور اس کا انعقاد محکمہ سیاحت نے کیا۔ اس تقریب میں سکٹری ٹوریزم کے علاوہ منسٹر ٹوریزم اور مشہور تاریخ دان شیرباز برجہ بھی موجود تھے۔ سرینا انتظامیہ کا اس میں کردار صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اس ٹی وی پروگرام کے لیے جگہ فراہم کی تھی اس کے ساتھ ساتھ سرینا انتظامیہ نے کلچر کے حوالے سے ایک کھانے کا سٹال لگایا تھا جس میں ثقافتی کھانے پکاتے ہوئے دکھایا جانا تھا۔ اسی طرح کچھ دیگر سٹال بھی لگے ھوئے تھے۔ صنم بلوچ کا مارننگ شو  میں تقریبا سو کے قریب جن کا زیادہ تر تعلق قراقرم یونیورسٹی سے تھا مدعو تھے۔
اس شو میں ایک دلہن بھی ہے جس کے اردگرد یہ ڈانس ہؤا۔ یہ ڈانس شو کے اختتام کے وقت ہوا۔ جب شو اختتام کی طرف بڑھا تو کمپیر نے شرکاء کو دعوت دی کہ وہ ثقافتی ڈانس میں ان کا ساتھ دیں۔ جب سامعین کی طرف سے کوئی خاص مثبت جواب نہیں ملا تو صنم بلوچ اور اسکی ٹیم جس میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے نے دھیرے دھیرے ڈانس شروع کیا۔ اسی اثنا میں قراقرم یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے بھی ڈانس میں شرکت کی جس پر اس کے چند دوستوں نے اس کو روکنے کی کوشش کی جس پر اس طالبہ یہ کہا کہ جب مجھے اعتراض نہیں اور میرے والدین کو اعتراض نہیں آپ لوگ کیوں اعتراض کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک یا دو اور لڑکیوں نے بھی ڈانس میں شرکت کی اور کچھ مقامی لڑکوں نے بھی۔ ذرائع کے مطابق ان لڑکیوں کو کسی کی جانب سے ڈانس کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی ہدایات یا احکامات نہیں دیے گئے تھے انہوں نے ڈانس اپنی مرضی سے کیا۔ دی گلگت سے بات کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ چونکہ یہ شور لائیو جا رہا تھا اس وجہ سے کسی نے بھی بیچ میں روک ٹوک یا مداخلت کرنے سے اجتناب کیا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here