سستی آدمی کی ناکامی

0
31

عبدالحسن

کون نہیں چاہتا کہ وہ زندگی میں خوش وخرم رہے،خصوصا نوجوان جو قوت وولولے،عزم وحوصلے  سے لبریز ہوتےہیں اور اس کے اندر یہ آرزو اپنے عروج پرہوتا ہے۔یہ سب کا حق ہے کہ جئےتو خوشیوں کے ساتھ،اسکی تمنائیں پوری ہوں اور ایک کامیاب زندگی گزارے،لیکن کیا یہ کافی ہے کہ انسان یہ خواہشات اپنے دل میں  بسائے رکھے اور آسمان سے بنی اسرائیل کیلئے نازل ہونے والا من وسلویٰ اس کیلئے بھی اترے یا پھر کچھ تقاضے ہوتے ہیں اور اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنی منزل مرادپاسکے،جو لوگ اپنی زندگی میں میسر مواقع سے فائدہ حاصل نہیں کرتےاور اپنی بھرپور صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے نہیں دیتے،ایسے افراد کی تمنائیں اور خواہشات  دل ہی دل میں ڈھیرے جمائے بیٹھ جاتی ہیں اور آدمی کامیابی کی دہلیز پر پہنچے بغیر اس دنیا سے کوچ کرجاتا ہے،خوشگوار اور حسین زندگی ہر انسان کا خواب ہے‘ وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے‘ترقی کرنا چاہتا ہے اور آسائشات سے بھرپور حیات گزارنا چاہتا ہے۔ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں ‘ ایک وہ جوزندگی کے لیے جیتے ہیں ‘ وہ ہر پل بہتر زندگی کے لیے تگ و دو کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کوزندگی کی بڑی خوشی جان کر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے لوگ صرف قسمت کو زندگی سمجھ لیتے ہیں یا پھر انہونی کے انتظار میں رہتے ہیں‘ لیکن سچ تو یہ ہے خوبصورت زندگی اتنی آسان نہیں کیونکہ بیج کو کھلنے اور خوشبو بکھیرنے کی منزل تک پہنچنے کیلئے گندم کے دانے کی طرح پہلے مٹی میںفنا ہونا پڑتا ہے جبکہ ہم محنت کے بغیر آسمان پرکمند ڈالناچاہتے ہیں، جو ناممکن ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زندگی بدلنے کا بڑی حد تک اختیار ہمارے ہاتھ میں بھی دے رکھا ہے‘ ہم تھوڑی سی توجہ‘ تھوڑی سی کوشش سے چند برسوں میں کامیابی کی منزل پا سکتے ہیں لیکن ہمیں کچھ بنیادی چیزوں کو اپنانا ہو گا ۔

ایک اہم چیز جو انسان کی زندگی کو بدل دیتی ہے وہ  ہے فرصت کے اوقات سے فائدہ اٹھانا ،یہ ایک بہترین آصول ہے ،جو انسان اپنی زندگی کی اہمیت سے آشنا ہے،وہ زندگی میں ملنے والے فرصت کےچند لمحات سے بھی فائدہ اٹھائے بغیر نہیں رہ سکتااور جوزندگی کی قدرو قیمت سے آگاہ نہیں،وہ حیوانوں کی طرح آوارگی میں نہ صرف قیمتی لمحات کو ضائع کرتا ہے بلکہ اپنی قیمتی زندگی کو بھی فنا کردیتا ہے۔یہ ایک فطری اصول ہے کہ جس چیز کی قدرومنزلت معلوم نہ ہو،اس چیز کی پروانہیں کی جاتی۔  اگر آپ اپنی زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلا کام یہ ہے کہ قوت ارادی اور عزم کو استعمال کرتے ہوئے اسے بہتر بنانے کا عزم کریں۔ یہ طے کریں کہ آپ کی زندگی کا فیصلہ دوسرے لوگ نہیں ، بلکہ آپ کی زندگی کا فیصلہ آپ خود کریں گے۔ آپ اپنے حالات و معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ اس راہ میں یقینا مشکلات پیش آئیں گی۔ بار بار ناکامی ہوگی۔ مگر آپ مسائل کی دیوار پر اپنے آہنی عزم کے ہتھوڑے برساتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ وہ دیوار مکمل طور پر ڈھہ جائے۔قوت ارادی، عزم اور پچھلی ناکامی کو بھول کر بار بار کوشش کرنے کا فیصلہ وہ بنیادی کلید ہے جو آپ کے ہر مسئلے کو آخر کار حل کردے گی۔ حضرت علی نے ارشاد فرمایا،جو سست روی اختیار کرے گا،ندامت وپریشانی اسے گھیرلےگا ،مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر الکسس کا کہناہے کہ کام کرنے والا جوملازم یامزدورپریشانی کا ڈٹ کرمقابلہ نہیں کرتےوہ جلد مرجاتے ہیں۔یاد رکھئے کہ اگر آپ لوگوں کی باتوں سے متاثرہوتے ہیں توآپ کمزور صلاحیت کے مالک ہیں لیکن اگر نتائج کومعیار سمجھتے ہیں تو آپ  مضبوط ارادے کے مالک ہیں۔اکثر لوگ اپنے کاماور مقاصد صرف اسلئے ترک کردیتے ہیں کہ فلاں نے ان پرسخت تنقید کی ،لوگوں کے باتیں  اور ان کےشور وغل کرنے پر کان دھرنا انسان کی قوت ارادی کی کمزوری کی دلیل ہے،لہذا اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے آپ ہمیشہ  اپنے کام میں مصروف رہیے ،نتائج کو معیاربنائیےاور لاگوں کی باتوں کو نظر انداز کیجئے،اپنےپروردگارکا نام لیجئے اور اٹھ کرکام کرنا شروع کریں ،جورنج  اٹھاتا نہیںاسے گنج نہیں ملتا۔اٹھ باندھ کمرچل پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here