آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں

1
1

آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو چار دن کی تاخیر پہلے ہی ہوچکی ہے،بجلی کی مسلسل بندش نے گویا زندگی مفلوج کر رکھی تھی، ان چارج دنوں میں کئی نئے واقعات رونما ہوئے جن میں پاکستان بھارت جھڑپیں قابل ذکر ہیں جس پر میں آخر میں بات کروں گالیکن پہلے گزشتہ دھرنے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے ایک واقعہ کا ذکر کرونگا جس نے مجھے متاثر کیا۔
یہ واقع پچھلے ہفتے رونما ہوا جب میں ایک دفتر سے باہر آ رہا تھا
’’ککا میرے بات سنو،‘‘ میں رک گیا کوئی مجھے پکار رہا تھا، مڑ کے دیکھا تو ایک چالیس، پینتالیس سالہ شخص منتظر تھا، ’’جی حکم کریں‘‘ میں نے جواب دیا، وہ شخص بولا میرا تعلق گلگت سے ہے اور میں پولیس میں ملازم ہوں، بس آپ کو یہ بتانا ہے کہ یہ جو آے ڈی سی صاحب ہیں یہ بالکل بے قصور ہیں، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں، میں اس واقعہ کا عینی شاہد ہوں اس دھرنے میں رونما ہونے والے واقعات کا، اے ڈی سی صاحب نے کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی۔ خدا کے لیے حق بات لکھئے اور مجھے آپ سے یہی توقع ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ جو کچھ وزیر قانون نے کہا تھا وہ جھوٹ تھا لیکن دھرنے والوں کی طرف سے شاید کچھ ایسے باتیں ہوئیں کہ وزیر قانون کا پارہ چڑھ گیا اور بیچارہ سرکاری افسر لپیٹ میں آگیا۔
میں اس شخص کو نہیں جانتا تھا لیکن اس نے خود ہی اپنا پورا تعارف کروایا جسے میں یہاں بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا یقیناًوہ شخص گلگت بلتستان کے ایک قابل احترام خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔۔
اس واقعے کے ایک دو روز بعد وزیر قانون اور اے ڈی سی کے مابین صلح صفائی کروا دی گئی اور کہا گیا کہ یہ واقعہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا تو مجھے خوشی ہوئی کہ ایک غلط فہمی کی بنیاد پرایک سرکاری افسر کا کیریئر خراب ہونے سے بچ گیا۔ اگر انہیں سزا کے طور پر واپس بھیج دیا جاتا تو ان کے ساتھ زیادتی ہوتی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے کی کوئی غیر جانبدار انکوائری بھی نہیں ہوئی تھی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عوامی نمائندوں کی عزت و تکریم ہم سب پر فرض ہے اگر منتخب نمائندے مضبوط ہوں گے تو نظام مضبوط ہوگا اور اگر نظام مضبوط ہوگا تو ملک مضبوط ہوگا اور عوام خوشحال، بیورو کریسی یقیناًحکومت کی پالیسیوں پر عملدرامد کی زمہ دار ہے بصورت دیگر معاملات آگے نہیں چل سکتے،امید ہے اس واقعے سے سب نے سبق سیکھا ہوگا اور آئندہ ایسے واقعات نہیں دہرائے جائیں گے۔
دوسری طرف جہاں پورے ملک میں بھارت کی سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے جذبات گرم ہیں وہاں پاکستان کا دیا گیا جواب یقیناًقابل تعریف ہے، جس کے بعد بھارت یا کسی دوسرے ملک کی طرف سے دوبارہ دراندازی کی جرات نہیں ہوگی، وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک بار پھر بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنا چاہیے، کیوں کہ جب جنگ شروع ہوگی تو نہ میرے کنٹرول میں رہے گی اور نہ مودی کے، اور جنگ دونوں ملکوں کے مفاد میں بھی نہیں، دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئیں سب بغیرسوچے سمجھے شروع کی گئیں، پہلی جنگ عظیم کو مہینوں میں ختم ہونا تھا لیکن 6 سال لگ گئے اور ایسا ہی دوسری جنگ عظیم میں بھی ہوا جب کہ امریکا نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ 17 سال تک چلتی رہے گی۔
اسی تناظر میں پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ جنگ میں کسی کی جیت ہوتی ہے نہ ہار۔جنگ میں انسانیت ہارتی ہے۔اسی طرح بھارتی ششما سوراج کا کہنا تھا کہ بھارت مزید تناؤ نہیں چاہتا ، ان بیانات کے بعد امید ہوچلی ہے کہ معملات بہتری کی جانب گامزن ہونگے اوردونوں ممالک اپنے اپنے ملک کے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں گے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here